ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہائی کورٹ نے اجیت پوار سمیت 70 دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا 

ہائی کورٹ نے اجیت پوار سمیت 70 دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا 

Thu, 22 Aug 2019 19:25:07    S.O. News Service

ممبئی،22/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) بمبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو ممبئی پولیس کی اقتصادی کرائم برانچ (یواو ڈبلیو) کو این سی پی لیڈر اجیت پوار اور 70 سے زائد دیگر لوگوں کے خلاف مہاراشٹر ریاست کوآپریٹو بینک (ایم ایس سی بی) گھوٹالہ معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ ان لوگوں کے خلاف کیس میں پہلی نظرقابل اعتماد ثبوت ہیں۔جسٹس ایس سی دھرمادھکاری اور جسٹس ایس کے شندے نے یواوڈبلیو کو اگلے پانچ دن کے اندر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیا۔سابق نائب وزیر اعلی پوار کے علاوہ کیس کے دیگر ملزمان میں این سی پی لیڈر جینت پاٹل اور ریاست کے 34 اضلاع کے مختلف سینئر کوآپریٹو بینک افسر شامل ہیں۔ملزمان کی ملی بھگت سے 2007 سے 2011 کے درمیان ایم ایس سی بی کو مبینہ طور پر تقریباً 1,000کروڑ روپے کا نقصان ہونے کا الزام ہے نابارڈ (نیشنل بینک فار ایگریکلچر اینڈ رورل ڈیولپمنٹ) نے اس کا معائنہ کیا اور عدالتی جانچ کمیشن نے مہاراشٹر کوآپریٹیو سوسائٹی ایکٹ (ایم سی ایس) کے تحت ایک چارج شیٹ داخل کیا۔چارج شیٹ میں پوار اور بینک کے کئی ڈائریکٹرز سمیت دیگر ملزمان کو نقصان کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔اس میں کہا گیا تھا کہ ان کے فیصلوں، کارروائیوں اور غیرفعالیت سے بینک کو نقصان ہوا۔نابارڈ کی آڈٹ رپورٹ میں چینی فیکٹریوں اور کتائی ملوں قرض تقسیم کئے جانے،قرض  واپسی میں اور ایسے قرضوں کی وصولی میں ملزمان کی طرف سے کئی بینک قوانین اور آر بی آئی کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کئے جانے کی بات سامنے آئی۔تب پوار بینک کے ڈائریکٹر تھے جانچ رپورٹ کے باوجود معاملے میں کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیاگیا۔مقامی کارکن سرندر ارورہ نے 2015 میں اس معاملے کو لے کر یواوڈبلیو میں ایک شکایت درج کرائی اور ایک ایف آئی آر درج کرنے کی مانگ کو لے کر ہائی کورٹ میں فریاد کی تھی۔


Share: